منگلورو،10؍ستمبر (ایس او نیوز) منگلورو میں 19دسمبر 2019کو شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے ) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این آر سی)کی مخالفت میں مظاہرے کے دوران تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار 22ملزمین کو سپریم کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔
خیال رہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد پر قابو پانے کے لئے پولیس نے جو فائرنگ کی تھی اس میں دو مسلم نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کی انکوائری مجسٹریٹ کے ذریعے کی جارہی ہے۔
اس سے پہلے 17فروری کو کرناٹکا ہائی کورٹ نے مذکورہ ملزمین کو ضمانت منظور کی تھی ، جس پر سپریم کورٹ نے 6مارچ کو روک لگادی تھی۔جس کے بعدسپریم کورٹ میں چیف جسٹس ایس اے بوبڑے ، جسٹس اے ایس بوپنا اورجسٹس وی راما سبرامنین کی بینچ کے سامنے عاشق عرف عاشق علی اور دیگر ملزمین کے لئے سینئر ایڈوکیٹ مُکل روہتگی کی قیادت میں کیرالہ ہائی کورٹ کے سابق جج آر بسنت اور حارث بیران کی ٹیم میں پیروی کی ۔جبکہ سالسیٹر جنرل توشار مہتہ نے حکومت کی طرف سے پیروی کی۔
ضمانت کی عرضی پر سماعت مکمل کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے ملزمین کو فی کس 25000روپے کا بانڈ فراہم کرنے اور کسی بھی پرتشدد کارروائی اور میٹنگس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ضمانت منظور کردی۔